تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روزاضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم پیداواری خطے سے سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے گی، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے برقرار رہنے پر بھی شکوک موجود ہیں اور آبنائے ہرمز بدستور محدود آمد و رفت کیلئے کھلی ہے۔برینٹ کروڈ فیوچرز 2.6 ڈالر یا 2.74 فیصد اضافے کے ساتھ 97.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 3.02 ڈالر یا 3.2 فیصد بڑھ کر 97.43 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔گزشتہ تجارتی سیشن میں دونوں بینچ مارک قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں، جہاں ڈبلیو ٹی آئی نے اپریل 2020 کے بعد سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی تھی۔ اس کی وجہ یہ توقع تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک جیسے عراق، سعودی عرب، کویت اور قطر کی تیل سپلائی کو عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے اور عموماً دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
تاہم جنگ بندی کی پائیداری پر سوالات برقرار ہیں، کیونکہ بدھ کے روز اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے، جس پر ایران نے عندیہ دیا کہ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنا غیر معقول ہوگا
