امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی خبر لیک کی، لیک ہونے والی معلومات سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی حکام اس شخص یا ادارے کی تلاش میں ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی معلومات لیک کیں۔ صدر کے مطابق یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور اس سے پہلے ایران کو دوسرے پائلٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ جس میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی، امریکی حکام اس سے لیک کرنے والے کی شناخت طلب کریں گے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ خبر لیک کرنے والے کو ڈھونڈیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے تلاش کر لیں گے کیونکہ ہم اس میڈیا کمپنی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، معلومات دو یا جیل جاؤ۔پریس بریفنگ آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں۔اُنھوں نے بتایا کہ ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔
