اسلام آباد()اسلام آباد ہائیکورٹ نے اقدامِ قتل کے ملزم ضمانت کی بعد از گرفتاری درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیاکہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے،ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا،جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے ملزم فواد عرف مانی کی ضمانت خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ میں عدالت کاکہناہے کہ دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے، ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے،ریکارڈ کے مطابق مدعیہ شبانہ کے بیٹے کو اس واقعہ کے دوران تین گولیاں لگیں،دورانِ تفتیش ملزم کے قبضے سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا،زخمیوں کو پہلے ہسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے،چند گھنٹوں کی تاخیر سےکیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا،دفعہ 324 پی پی سی میں جسم کے نازک یا غیر نازک حصے کی کوئی تفریق نہیں ہے،گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا،پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد عرف مانی کے خلاف پہلے بھی چار دیگر مقدمات درج ہیں،ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے،وہ ضمانت کا حقدار نہیں،عدالت نے یہ ہدایت بھی کی کہ یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔
