پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن کا دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے، خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر بھی احتجاج شروع کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز دھرنے میں شیر افضل مروت کی انٹری نے سب جو چونکا دیا، جبکہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شیر افضل مروت کو دیکھ کر کرسی چھوڑ کر چلے گئے۔اپوزیشن قیادت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال میں مکمل طبی سہولتوں کی فراہمی اور ان کی فیملی و ذاتی معالج سے ملاقات تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔مظاہرے میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔ خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنے کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔اسی دوران دھرنے میں شیرافضل مروت کی آمد پر صورتِحال میں اچانک کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ شیر افضل کی انٹری پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کرسی سے اٹھ کر چلے گئے۔شیرافضل مروت نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف علی امین گنڈاپور سے ملنے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو دوستی نبھانا جانتے ہیں اور بڑے عہدے انسان کو بڑا نہیں بناتے بلکہ بڑا ظرف انسان کو بڑا بناتا ہے۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی اور وہ چاہتے تھے کہ مسئلہ حل ہو جائے۔اُن کا کہنا تھا کہ اتنی کوشش اِن سب میں سے کسی نے نہیں کی اور انہوں نے یہ بات بانی پی ٹی آئی اور پارٹی قیادت کو بھی بتا دی ہے۔
