اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹی وی چینلز سے اشتہارات کی مد میں سالانہ آمدنی کا پانچ فیصد بطور محصول وصول کرنے کے پیمرا نوٹسز کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے ) اور آٹھ نجی ٹی وی چینلز کی درخواستوں پر کی ۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور پیمرا کے نوٹسز کو چیلنج کیا ۔ وکیل پی بی اے نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا نے گزشتہ 13 برسوں کے دوران اشتہارات کی آمدنی پر مبنی تقریباً دو ارب روپے کی رقم جمع کرانے کے لیے ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کیے ہیں حالانکہ چینلز کو سالوں قبل لائسنس جاری کیے گئے تھے اور اس عرصے میں کبھی بھی مجموعی اشتہاراتی آمدن کا پانچ فیصد ادا کرنے کا تقاضا نہیں کیا گیا ۔ دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ پیمرا یہ مطالبہ پیمرا رولز 2009 کے شیڈول بی کی بنیاد پر کر رہا ہے تاہم پیمرا کے پاس کسی بھی قسم کا ٹیکس یا محصول عائد کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں ۔ وکیل کے مطابق پیمرا پہلے ہی ٹی وی چینلز سے سالانہ لائسنس فیس الگ سے وصول کرتا ہے ، اس کے باوجود اشتہاراتی آمدنی پر اضافی پانچ فیصد چارجز غیر قانونی ہیں۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پیمرا کے ڈیمانڈ نوٹسز کے تحت اربوں روپے کی رقم بنتی ہے جو کسی بھی چینل کے لئے ادا کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر اتنی رقم ادا کرنی پڑی تو بہتر ہے کہ چینلز ہی سرکاری تحویل میں لے لیے جائیں ۔ دوسری جانب پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹی وی چینلز نے آج تک اشتہارات کی سالانہ آمدنی کا پانچ فیصد پیمرا کو ادا نہیں کیا ، جس کے باعث واجب الادا رقم اربوں روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد پی بی اے اور ٹی وی چینلز کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ واضح رہے کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور متعلقہ ٹی وی چینلز نے سال 2022 میں پیمرا کے ڈیمانڈ نوٹسز کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے اشتہارات کی سالانہ آمدن پر پانچ فیصد محصول کی وصولی کے نوٹسز پر حکمِ امتناع جاری کر رکھا تھا۔
