نیویارک کی وفاقی عدالت میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ ابتدائی سماعت کے دوران مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں پیش ہوتے ہوئے اپنے خلاف عائد تمام الزامات پر صحتِ جرم سے انکار کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق 63 سالہ مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں چار فوجداری الزامات پر خود کو بے قصور قرار دیا، جن میں نارکو ٹیررازم، کوکین درآمد کرنے کی سازش اور مشین گنز و تباہ کن ہتھیار رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔استغاثہ کے مطابق مادورو ایک ایسے کوکین اسمگلنگ نیٹ ورک کی نگرانی کرتے رہے جو میکسیکو کے سینالوا اور زیٹاز کارٹلز، کولمبیا کی فارک باغی تنظیم اور وینزویلا کے ٹرین دے اراگوا گینگ کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔مادورو ان الزامات کی طویل عرصے سے تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر سامراجی قبضے کا بہانہ ہیں۔سماعت کے دوران عدالت میں بیان دیتے ہوئے نکولس مادورو نے کہا کہ میں بالکل بے قصور ہوں، میرے خلاف لگائے گئے الزامات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ سماعت کے دوران مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس بھی عدالت میں موجود تھیں، جنہوں نے خود کو وینزویلا کی خاتونِ اول قرار دیا۔
