اسلام آباد،
جنوری: کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے میزان بیوریجز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر پیپسی کولا کی انرجی ڈرنک ’اسٹنگ‘ کی پیکجنگ اور ٹریڈ ڈریس کی نقل کرنے پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمیشن کے فیصلے کے مطابق میزان بیوریجز کی انرجی ڈرنک ’اسٹورم ‘ نے اسٹنگ کے مجموعی انداز، رنگوں کے امتزاج، بوتل کے ڈیزائن اور برانڈنگ کی ایسی نقل کی جس سے صارفین میں کنفیوژن پیدا ہونے کا واضح امکان تھا۔ کمیشن کے مطابق میزان کی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ عمل پیر اسائٹک کاپیئنگ کے زمرے میں آتا ہے اور پاکستان کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ یہ کیس 2018 سے زیر التوا تھا۔ پیپسی کولا انکارپوریٹڈ نے کمپٹیشن کمیشن میں شکایت درج کرائی کہ میزان بیوریجز نے اپنی انرجی ڈرنک اسٹورم کو اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ وہ اسٹنگ سے مشابہ ہو اور پیپسی کولا کی ساکھ سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا سکے۔میزان نے کیس کے میرٹ پر جواب دینے کے بجائے، کمپٹیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو عدالت مین چیلنج کیا اور طویل عدالتی کارروائیاں انکوائری پر بار بار امتناع حاصل کیا اور انکوائری کئی برس تک تعطل کا شکار رہی۔
گزشتہ سال لاہور ہائیکورٹ نے میزان بیوریجز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کمپٹیشن کمیشن کے انکوائری کرنے کے اختیار کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ کہ شوکاز نوٹس کے مرحلے پر کمیشن کے اقدام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ میزان بیوریجز نے کمپٹیشن کمیشنکی قانونی کارروائی میں تعطل ڈالنے کے لئے عدالتوں سے اسٹے کے حربے استعمال کیے۔ عدالت نے کمپٹیشن کمیشن کو انکوائری مکمل کر کے فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی۔ کمپٹیشن کمیشن نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ میزان بیوریجز کی انرجی ڈرنک اسٹورم میں کو، پہلے سے مارکیٹ میں دستیاب پیپسی کولا کی ڈرنگ ’اسٹنگ‘ سے مشابہ سرخ رنگ پر کی کلر اسکیم ، یکساں انداز کی بولڈ اور ترچھی سفید تحریر ، تقریباً یکساں بوتل کی ساخت میں بنایا اور مارکیٹ کیا گیا ۔ ایسے برانڈنگ عناصر عام صارف کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ کمیشن نے فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ میزان کے پاس ’اسٹورم‘ کے نام کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود تھا، تاہم ٹریڈ مارک کی رجسٹریشن صارفین کو گمراہ کرنے کی صورت میں کمپٹیشن قانون سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتی۔کمپٹیشن کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے واضح کیا ہے کہ کہ نقل شدہ برانڈنگ اور گمراہ کن پیکجنگ اور مارکیٹنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، چاہے کمپنی کا سائز کچھ بھی ہو، سخت کارروائی کی جائے گی۔
