36.7 C
Islamabad

شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال کرنے کا اختیار کالعدم

لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال کرنے سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں کے اختیارات محدود کر دیے ہیں۔

عدالت نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شہریوں کا نام پانچ سال یا اس سے زائد مدت تک رکھنے کے اختیار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ غیر فعال کرنا پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور یہ اقدام آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 23 اور رول 22(2)(سی) کو غیر آئینی اور قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر پاسپورٹ قوانین میں ضروری ترامیم کرے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کے سفر پر خفیہ پابندی لگانا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور غیر قانونی اووراسٹے کو انسانی اسمگلنگ یا سنگین جرائم کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ پاسپورٹ غیر فعال کرنے کا اختیار کالعدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاسپورٹ منسوخ کرنے، ضبط کرنے یا تحویل میں لینے کا قانونی اختیار بدستور برقرار رہے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ متاثرہ شہری کی درخواست پر نئے سرے سے قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ عدالتی فیصلے کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سفر سے متعلق معاملات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

پاکستان نے ایران کو دوحہ مذاکرات کے لیے پھر قائل کرلیا

پاکستان نے اپنی بہترین سفارت کاری کی بدولت ایک...

امریکی کانگریس میں اسرائیل کی 3.3ارب کی فوجی امداد روکنے کی تجویز

واشنگٹن: امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ...

پاک افغان سرحدپر سکیورٹی فورسز کی کارروائی 29 دہشتگرد ہلاک

ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی...

تازہ ترین