سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ میں رپورٹ ہونے والے 135 ارب روپے کے خطرناک پٹرولیم مصنوعات سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔یہ بات انہوں نے پیر کو سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں کہی۔ سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے پینل کو بتایا کہ دو حاضر سروس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے جبکہ دو ریٹائرڈ افسران کے کیسز 15 اکتوبر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیجے گئے ہیں۔ 135 ارب روپے کا گھپلہ صنعتی کیمیکل کے طور پر خطرناک پیٹرول کی درآمد سے متعلق ہے۔
