اسلام آباد
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس میں پانچ گواہوں کے بیانات قلمبند کر لئے ۔ مزید سماعت سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔ گزشتہ روز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کی تو سماعت کے آغاز پر ایمان مزاری کے وکیل نے کیس گیارہ بجے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کل بھی ملزمہ کی درخواست پر گواہان کے بیانات ملتوی کئے گئے تھے جبکہ گیارہ بجے دیگر مقدمات بھی مقرر ہیں۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ گواہان بیان ریکارڈ کروانے کے لیے موجود ہیں اور تاخیر سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ جیسے ملزمان نہیں بلکہ پراسیکوشن زیرِ عتاب ہے ۔ عدالت نے دس بجے تک وقفہ کر دیا۔ وقفے کے بعد دوبارہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ جونیئر وکیل نے بتایا کہ ایمان مزاری ایک ضمانت کے کیس میں ہائیکورٹ میں موجود ہیں۔ اس پر جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دئیے کہ جو اپنے کیس میں پیش نہیں ہو رہے وہ کسی اور کیس میں کیسے پیش ہوں گے اور کہا کہ ساڑھے دس بجے تک پیش نہ ہونے کی صورت میں ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی ۔ عدالت نے دوبارہ وقفہ کر دیا۔ وقفہ کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو گئے۔ این سی سی آئی اے کے گواہ وسیم اور عمران حیدر نے اپنے بیانات عدالت میں ریکارڈ کروائے۔ گواہ وسیم نے شناختی کارڈ پیش کیا تاہم سروس کارڈ اس وقت موجود نہ ہونے کا بتایا جبکہ گواہ عمران حیدر نے شناختی کارڈ اور سروس کارڈ دونوں عدالت میں پیش کیے۔ دورانِ سماعت ہادی علی چٹھہ نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت میں مبینہ متنازعہ ٹویٹس نہیں دکھائی گئیں، جسے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے مجموعی طور پر پانچ گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد کیس کی سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ 23 دسمبر کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا گواہوں پر جرح کریں گے۔
