38.1 C
Islamabad

والد پاکستانی ہے افغانستان ڈی پورٹ نہ کیا جائے بیٹا عدالت پہنچ گیا

اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت نے پاکستانی شہریت حاصل کرنے اور افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے سے متعلق درخواست میں وزارت سیفران کو درخواست گزار کی پی او آر کارڈ منسوخی کی دائر درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزارت سیفران کے فیصلے تک متعلقہ اداروں کو درخواست گزار کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا۔گذشتہ روز بخت جان کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل نے موقف اختیار کیاکہ پشاور ہائیکورٹ کافیصلہ ہے کہ نادرا نے پی او آر کارڈ سے متعلق فیصلہ کرنا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائیکورٹ کورٹ کا فیصلہ doubt fullشہریت کے لیے ہے،کیاآپ کی درخواست کو کیا رٹ میں تبدیل کردوں؟، آپ غلط گاڑی میں بیٹھے ہیں،بعض دفعہ ججز بھی prejudice اور biased دماغ کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں،بعض دفعہ ججز گراونڈ دیکھتے ہی نہیں اور فیصلہ کردیتے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ سول کورٹ شہریت دینے کا حکم نہیں دے سکتی،شہریت دینا یا نہ دینا حکومت کی صوابدید یے،اس کیس میں معاملہ یہ ہے کہ درخواست گزار افغان مہاجر ہے،درخواست گزار کو ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے والدین پاکستانی ہے،درخواست گزار کو اپنا پی او آر کارڈ کینسل کرا کے پھر شہریت کہ درخواست دینی پڑے گی،شہریت کے لیے پی او آر کارڈ کی منسوخی لازمی ہے، درخواست گزار وکیل نے کہاکہ میں نے وزارت سیفران اور نادرا میں درخواست دی یے،میری درخواست پر فیصلہ نہیں کیا جارہا،عدالت نے وزارت سیفران کو درخواست گزار کی پی او آر کارڈ منسوخی کی دائر درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کر دی۔

مزیداسی طرح کی
Related

پاکستان نے ایران کو دوحہ مذاکرات کے لیے پھر قائل کرلیا

پاکستان نے اپنی بہترین سفارت کاری کی بدولت ایک...

امریکی کانگریس میں اسرائیل کی 3.3ارب کی فوجی امداد روکنے کی تجویز

واشنگٹن: امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ...

پاک افغان سرحدپر سکیورٹی فورسز کی کارروائی 29 دہشتگرد ہلاک

ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی...

تازہ ترین