خیبرپختونخوا حکومت نے بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دینے پر غور شروع کردیا، کاشت پر ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی اور باقاعدہ لائسنس جاری کیا جائے گا۔ڈی جی ایکسائزعبدالحلیم خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں زیلی کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہیمپ کی کاشت کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں زیلی کمیٹی کے ممبران نے بھنگ کی کاشت پر ایکسائز ڈیوٹی، لائسنس فیس اور مدت پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں ادویات میں استعمال کے لیے 5 ایکٹر رقبے پر بھنگ کی کاشت کی فیس 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی۔اجلاس میں بھنگ کی تیاری اورحتمی پیداوارپرایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں لائسنس کے لیے دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کیا گیا، ورکنگ گروپ میں شعبہ فارمیسی پشاور یونیورسٹی اور فارما سیوٹیکل کمپنی کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق محکمہ ایکسائز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر بھنگ کی کاشت اور پروسسنگ کی کڑی نگرانی کرے گا جبکہ لائسنس حاصل کرنے والی انڈسٹری سیڈ رجسٹریشن ، سرٹیفیکشن سمیت وفاقی حکومت سے متعلق دیگرمعاملات کی ذمہ دار ہوگی۔
