پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں شروع ہوگیا
،مشترکہ جلاس کے لیئے 15 نکاتی ایجنڈا پیش کر دیا گیا، ایوان میں صدر مملکت کی جانب سے روکے گئے 7 بل مشترکہ اجلاس میں پیش، اقلیتی کمیشن کے قیام پر اپوزیشن کا احتجاج
حکومت نے اقلیتی کمیشن کے قیام کے قانون میں سیکشن 35 اور سیکشن 12 جو کمیشن کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار دیتا ہے اسے ختم کرنے اعلان کردیا
اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے کمیشن کے قیام بل کی مخالفت کردی، جس کے بعد سپیکر نے رائے شماری کی ہدایت کی
اس دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی اراکین نے ناموس رسالت کے نعرے بھی بلند کیئے، مولانا فضل الرحمن نے مخالفت میں ووٹ کیا
ایوان میں کمیشن کے حق میں 160 اراکین نے ووٹ کیا جبکہ 79 اراکین نے مخالفت میں ووٹ کیا جس کے بعد پارلیمنٹ نے ترامیم کے ساتھ اقلیتی کمیشن کے قیام کے بل کی منظوری دے دی ہے
اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا، اپوزیشن کی نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی میں حکومت نے بل کی منظوری دے دی
حکومت نے اقلیتی کمیشن کے قیام کے بل سے متنازعہ سیکشن 35 اور سیکشن 12 واپس لے لیں
اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس کی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کردیا،جمعیت علماء اسلام ایوان میں واپس آگئی
