سپریم کورٹ نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف فیصلہ جاری کردیا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی و توہین آمیز سلوک اور ذاتی وقار کی پامالی کسی صورت جائز نہیں
فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہوسکتی۔
عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر جاری کیا، تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے، اسے قتل کرنے کا الزام تھا
نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ کارروائی کے فیصلے کیخلاف پنجاب سروس ٹربیونل سے درخواست گزاروں نے رجوع کیا تھا، پنجاب سروس ٹربیونل نے انکی نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے کیس سنا تھا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کیخلاف 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے، کیوں کہ وہ استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس عمل کو روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے، زندگی کے حق کو سب سے اعلیٰ انسانی حق قرار دیا گیا ہے، اور آئین ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ریاست ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے، حراستی تشدد اور قتل کو روکے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد، ماورائے عدالت قتل کیخلاف یہ آئینی ضمانتیں قانونی اصولوں کی اساس ہیں، غیر قانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں پسندیدہ ہیں نہ ہی قابلِ جواز
