43 C
Islamabad

چینی کی قیمت بڑھانے والا کارٹل شکنجے میں

کمپٹیشن کمیشن نے کارٹل بنا کر کرشنگ میں تاخیر اور گنے کی قیمت فکس کرنے پر شوگرملوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے

 

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کرنے اور کسان سے گنے کی خریداری کی قیمت 400 روپے فی من فکس کرنے کے لئے کارٹل بنانے پر پیجاب کی دس شوگر ملوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دئے ہیں

 

کمپٹیشن کمیشن کے مشاہدہ میں آیا کہ شوگر ملوں نے فاطمہ شوگر ملز میں نومبر کی دس تاریخ کو ایک میٹنگ کی جس میں ان دس ملوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گنے کی کرشنگ نومبر کی 28 تاریخ سے شروع کی جائے گی۔ ان اس ملوں کے نمائندوں نے مل کر یہ بھی فیصلہ کیا کہ گنے کی فی من قیمت 400 روپے دی جائے گی

 

 اس میٹنگ کی صدارت، فاطمہ شوگر ملز کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رانا جمیل احمد شاہد نے کی۔ اجلاس میں شیخو شوگر ملز، تھل انڈسٹریز کارپوریشن، تاندلیانوالہ شوگر ملز (رحمن ہاجرا یونٹ)، جے کے ون شوگر ملز، اشرف شوگر ملز اور کشمیر شوگر ملز کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ سراج شوگر ملز، ٹو اسٹار شوگر ملز اور حق باہو شوگر ملز کے نمائندگان نے آن لائن شرکت کی

 

واضح رہے کہ کسی بھی مارکیٹ میں فرقین کا گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنا یا دیگر کاروباری فیصلے کرنا کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے

 

 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب شوگر کین کمشنر نے شوگر ملوں کو 15 نومبر سے کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت کی تھی

 

شوگر مل مالکان اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کی طاقت میں واضح عدم توازن ہے۔ اصولی طور پر گنے کی قیمت ہر ایک مل کو اس علاقے کے کسانوں کے نمائندے کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے، طلب و رسد کو مد نظر رکھتے ہوئے طے کرنی چاہیے۔ تاہم مارکیٹ کے قدرتی نظام کو چلنے دینے کے بجائے ، مل مالکان نے گٹھ جوڑ بنا کر گنے کی قیمت 400 روپے فی 40 کلو یکطرفہ طور پر مقرر کر دی.

 

کمپٹیشن کمیشن نے ان شواہد کی روشنی میں ملوں کو شوکاز کرتے ہوئے 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ کیوں نہ ان ملوں کے خلاف ممنوعہ معاہدوں، گنے کی مارکیٹ کو متاثر کرنا اور کرشنگ میں تاخیر سے ناجائز تجارتی فائدہ حاصل کرنا ہے، میں شامل ہونے پر قانونی کارروائی کی جائے

 

ابتدائی سیزن میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے مارکیٹ میں چینی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے اور ریٹیل چینی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے

 

چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے تمام کاروباری ایسوسی ائیشن کو واضح کیا ہے کہ کسی بھی تجارتی تنظیم یا ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم کارٹل بنانے یا اجتماعی کاروباری فیصلے کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوتا چاہیے۔ انہون نے تنبیہ کی ہے کہ کسی تجارتی ایسوسی ائیشن کے کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین