حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کر دی
تفصیلات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت قواعد میں اہم ترامیم متعارف کرا دی
ایف بی آر نے گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے رولز بنا دیئے
سول سرونٹ کی جگہ پبلک سرونٹ کا لفظ شامل کر دیا گیا، قواعد میں پبلک سرونٹ کی نئی تعریف بھی شامل کر دی گئی، قومی احتساب آرڈیننس کے تحت مستثنیٰ افراد شامل نہیں ہوں گے، نئے قواعد کا مقصد اثاثہ جات شیئرنگ نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے
رولز کے مطابق گریڈ 17 اور اوپر کے گریڈ کے پبلک سرونٹ کو اثاثوں کی تفصیلات سالانہ پبلک کرنا ہوں گی
پبلک سرونٹ میں 17 اور اوپر کے وفاقی، صوبائی، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران شامل ہیں، حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے افسر بھی اب پبلک سرونٹ ہی ہوں گے۔
