35 C
Islamabad

افغانستان میں ڈرون حملے پاکستان سے نہیں ہوتے نہ امریکا سے ایسا کوئی معاہدہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

طالبان سے مذاکرات کی بات کرنے والے افغانستان چلے جائیں تو بہتر ہے، غزہ فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کریں گے, لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں. یہ بات انہوں ںے راولپنڈی میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر ںے کہا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں، دہشت گردی کا خاتمہ اہم ہے۔

ڈرون کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، امریکا کے کوئی ڈرون پاکستان سے نہیں جاتے، وزارت اطلاعات نے اس کی کئی بار وضاحت بھی کی ہے، ہمارا کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ ڈرون پاکستان سے افغانستان جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے، استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، ٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے، ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کے امیر کے نام پر بیعت کی، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آباد ی ان لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، دہشت گردی، چرس، اسمگلنگ یہ سب کام یہ لوگ مل کر کر کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ کریئیٹ ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے, ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں کوئی آپریشن کیا، اگر ہم آپریشن کریں گے تو بتائیں گے، ہم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں جن میں 200 کے قریب ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، ہماری چوکیوں پر جو قافلے رسد لے کرجاتے ہیں ان پر حملے ہوتے ہیں۔

کے پی گورنر راج کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہماری نہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جو لوگ مساجد اور مدارس پر حملے کرتے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ استنبول میں جو کانفرنس ہونی ہے ہمارا موقف بالکل کلیئر ہے، دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، مداخلت نہیں ہونی چاہیے، افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے، سیزفائر معاہدہ ہماری طاقت سے ہوا، افغان طالبان ہمارے دوست ممالک کے پاس چلے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اخلاقیات نہ سکھائے اور ہم کسی کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر منت سماجت نہیں کررہے، ہم اپنی مسلح افواج اور لوگوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں حکومت کا معاملہ ہے، غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرحد 26 سو کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریا بھی شامل ہیں، ہر 25 سے 40کلومیٹر پر ایک چوکی بنتی ہے ہر جگہ نہیں بن سکتی، دنیا بھر میں سرحدی گارڈز دونوں طرف ہوتے ہیں یہاں ہمیں صرف یہ اکیلے کرنا پڑتاہے،ان کے گارڈز دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کے لئے ہماری فوج پر فائرنگ کرتے ہیں، ہم تو ان کا جواب دیتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکہ حق میں حکومت پاکستان، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلے کیے، کے پی کے حکومت اگر دہشت گردوں سے بات چیت کا کہتی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا اس سے کفیوژن پھیلتی ہے، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارے ہاں علماء، میڈیا اور سیاست دانوں کو یک زبان ہونا ہوگا تب فیصلے کرسکیں گے۔

افغان طالبان رجیم تبدیل کرنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم افغان معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم کبھی سیاست میں نہیں آتے اور نہ سیاست دانوں کی طرح بات کرتے ہیں ہم اپنی بات ڈائریکٹ کرتے ہیں، فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے، فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی۔

میزائل تجربے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ملک میں ڈویلپمنٹ ہوتی رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے رواں سال دہشت گردی سے نقصانات اور آپریشنز کی تفصیلات جاری کردیں اور بتایا کہ 2025ء میں انسداد دہشت گردی کے 62 ہزار 113 آپریشن کیے گئے، ملک بھر میں روزانہ کے حساب سے اوسطاً 208 آپریشن ہوئے، زیادہ آپریشن بلوچستان میں ہوئے مگر ہلاکتیں خیبرپختونخواہ میں زیادہ ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال دہشت گردی کے 4373 واقعات ہوئے جن میں 1667 دہشت گرد ہلاک اور 1073 افراد شہید ہوئے، شہداء میں آرمی کے 584، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 133 جوان اور 356شہری شامل ہیں، شہداء میں آرمی کے 584، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 133 جوان اور 356 شہری شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 514 واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں77 دہشت گرد ہلاک اور 198 افراد شہید ہوئے، خیبرپختونخوا کے شہداء میں آرمی، ایف سی کے36، ایک پولیس اہلکار اور 12شہری شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن، آرمی، رینجرز اور انٹیلی جنس کے ادارے مل کر کررہے ہیں، جو دہشت گرد مارے گئے ہیں ان میں 128 افغانی ہیں، خوارج سے عوام کو بچانے کے لیے ہم آپریشن کرتے ہیں، ہمارے لوگ بھی شہید ہوتے ہیں، سیاسی لوگ کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشنز زیادہ ہورہے ہیں اور کے پی میں دہشت گرد زیادہ مارے جارہے ہیں، یہ لوگ فوج کے خلاف کام کرتے ہیں اور عشر کے نام پر ٹیکس لیتے ہیں، یہ لوگ جسے عشر کہتے ہیں یہ بھتہ ہے، یہ بارڈر اوپن چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے حشیش لائی جاسکے، افغانستان میں منشیات اسمگلرز کی افغان سیاست میں مداخلت ہے، اس کا حصہ طالبان کو بھی جاتا ہے اور وارلارڈز کو بھی ملتا ہے، یہ آئس ہماری یونیورسٹیوں تک جارہی ہے ہماری نوجوان نسل کو خراب کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عمائدین، دہشت گرد، جرائم پیشہ لوگ مل کر قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں، کئی بار فوج نے علاقہ کلیئر کیا مگر سول انتظامیہ اور پولیس سیاسی دباؤ کے سبب کام نہیں کرپا رہی، اسمگلرز خوارج سے مل کر کام کر رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان میں تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہم سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہے، 2014ء میں 38 ہزار مدارس تھے اب ایک لاکھ کے قریب مدارس بن چکے، ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اکتوبر میں افغانستان نے ہماری چوکی پر بلااشتعال حملہ کیا تو ہم نے جواب دیا،انہوں نے جھوٹ کہا کہ ہمارا ٹینک لے لیا ہے حالانکہ وہ روسی ٹینک تھا، انہوں نے خود باب دوستی کو اڑایا اور کہا ہم نے تباہ کیا، جو لوگ افغانستان کی محبت میں ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ان لوگوں سے مذاکرات کریں جو ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں، پھر ان لوگوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ افغانستان ہی چلے جائیں ان کیلئے وہی جگہ بہتر ہوگی۔

لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ ٹی ٹی پی ہمارا مسئلہ ہے تو آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں، ثالثوں پر ہم نے واضح کیا کہ افغان طالبان خوارج کے سرپرست ہیں، کنڑ کے نائب گورنر کی وڈیو آئی ہے وہ بارڈر کے قریب کھڑا تھا، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے سب ایک ہیں، افغان طالبان رجیم نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے لوگوں کو افغانستان میں بسانا شرو ع کر دیا ہے، یہ سمجھتے ہیں ہم سے بچ جائیں گے، بالکل نہیں بچیں گے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دنیا کے سامنے آ چکا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے، افغانستان کا چھ ہمسائیہ ممالک کے ساتھ ویزا رجیم ہے وہ صرف ہمارے ساتھ ویزا کو کیوں نہیں مانتے؟ افغان سوشل میڈیا، افغان سیاست دان اور انڈین میڈیا جھوٹ پھیلا رہے ہیں، ہمارے وزیر دفاع اور وزیراطلاعات نے افغان رجیم کے متعلق بھرپور بیانات دیئے، افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد پکے جھوٹے ہیں انہوں نے روسی ٹینک پاکستان کا بنادیا، آئی ایس ایس کے فائٹرز کی پاکستان میں موجودگی کی بات غلط ہے، اے آئی کے ذریعے روسی صدر کی جعلی وڈیو بنائی گئی جس کی تردید آگئی، پاکستانی صحافی کے حوالے سے پاکستانی فوج جانے کی جھوٹی خبر چلائی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سال 2018ء میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی تھی مگر پھر کسی ایک نے کہا کہ طالبان کا دفتر کھول دیں، کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ کس کس نے کہا تھا طالبان کا دفتر کھول دیں، ہم نے کسی کو اپنا ڈارلنگ نہیں بنایا، افغان طالبان ہمارے ڈارلنگ کبھی نہیں رہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی ریاست نان اسٹیٹ ایکٹر کے ساتھ بیٹھ جائے، دوحہ مذاکرات میں وہ ہماری بات مانتے تھے اور پھر پیچھے فون کرنے لگ جاتے تھے، وہ مسودے کو مان کر کہتے تھے ابھی دستخط نہیں کر سکتے، پوچھنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیاست دانوں اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ میں بہت کمی آئی ہے، پہلے روزانہ پندرہ ملین بیرل ایرانی تیل آتا تھااب دس ملین پرمٹ کے ساتھ آتا ہے، آرٹیکل 243 میں ترمیم جیسے قانون سازی کے معاملات حکومت اور پارلیمنٹ کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جرگہ بہت چلتاہے، باجوڑ میں بھی پہلے بات چیت کی، ہم نے کہا دہشت گرد ہمارے حوالے کر دیں یا افغانستان بھیج دیں یا آپریشن کرنے دیں، ہم دہشت گردوں کے خلاف ہیں کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں ہو رہا، دہشت گردوں کو پناہ دینے والے، سہولت کاروں کو نقصان پہنچنا کولیٹرل ڈیمیج میں نہیں آتا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کے پی کے وزراء کے بیانات کا ہم جواب نہیں دیں گے وہ سیاست کرتے ہیں، وہ اپنا بیانیہ چلاتے رہیں ہم اپنی پرفارمنس پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں گے، آرمی چیف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نہیں بلایا تو ان کا استحقاق ہے جس کو مرضی بلائیں، آرمی چیف کے جرگے میں سب کا اتفاق تھا کہ فوج جو کارروائی کر رہی ہے وہ ٹھیک ہے۔

میڈیا سے متعلق انہوں نے کہا کہ میڈیا کو آزادی ہے تو حدود و قیود بھی ہیں، مادر پدر آزادی دنیا میں کہیں پر نہیں، پیمرا سے میڈیا لائسنسوں کا ریکارڈ چیک کر لیں سب لکھا ہوا، یہاں لوگوں نے جنرل (ر) کیانی کے آسٹریلیا میں جزیرے نکال دیئے وہ خود پوچھتے ہیں کہاں ہیں جزیرے؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 1997ء کے طالبان نے بامیان کے مجسمے اڑا دیئے تھے، آج کے طالبان بامیان کے مجسموں کے نیچے پریس کانفرنس کرتے ہیں، ہر وقت ایک ہی بات مستقل نہیں رہتی، ہم نے ہمیشہ افغانوں کیلئے حسن ظن دکھایا، ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں، طالبان نے الیکشن کرائے نہ لویہ جرگہ بلایا۔

بھارت سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت گہرے سمندر میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، بھارت نے زمین، سمندر اور فضا میں جو کچھ کرنا ہے کرلے، بھارت جان لے اس بار جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین