32.8 C
Islamabad

پلاسٹک بیگز سے اینٹیں بنانے کا جدید اور حیرت انگیز کارنامہ

لاہور : پاکستان سمیت دنیا بھر میں صدیوں سے اینٹیں روایتی بھٹوں پر مٹی، پانی اور آگ کے امتزاج سے تیار کی جاتی رہی ہیں لیکن آب اینٹیں پلاسٹک کی مدد سے تیار کی جارہی ہیں۔

اینٹیں بنانے کا پرانا طریقہ کار نہ صرف ماحول پر منفی اثر ڈالتا ہے بلکہ توانائی اور وسائل کے کے بڑے اخراجات کا سبب بھی ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب اینٹیں بھی ایک نئے اور ماحول دوست طریقے سے بن رہی ہیں یعنی پاکستان میں پلاسٹک سے اینٹیں تیار کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز لاہور کے نمائندے تقدیس احمد کی رپورٹ کے مطابق پلاسٹک کی بنی اینٹوں ایکو برکس ٹائلز سے بلند و بالا گھر تیار کیے جائیں گے اور مہنگے سیمنٹ کی تیار اینٹوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔

اس حوالے سے کمپنی کے سی ای او گلفام عابد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پلاسٹک ایک عالمی مسئلہ ہے جو بہت سی مشکلات کا باعث بنتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 500 ٹن پلاسٹک صرف لاہور میں ڈاؤن سائٹ پر ضائع ہوتا ہے۔

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا آئیڈیا تھا کہ شہر کی تمام پلاسٹک کو اکٹھا کرکے اسے کام میں لایا جائے، جس پر ریسرچ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پلاسٹک کو ایکو برکس میں تبدیل کریں گے۔

ریت، بجری، سمینٹ اور پلاسٹک کے اشتراک سے اینٹوں ایکو برکس ٹائلز تیار کیے جاتے ہیں، اور اس میں دو اقسام کی پلاسٹک کو استعمال کیا جاتا ہے ایک شاپنگ بیگس اور دوسرا بچوں کے چپس کے پیکٹ کی پلاسٹک شامل ہیں۔

ان تمام اجزاء کو ایک مخصوص طریقے سے ملاکر مکسچر بنایا جاتا ہے جس کے بعد یہ پلاسٹک کی اینٹیں تیار ہوتی ہیں۔

مزیداسی طرح کی
Related

امریکہ کے دو جنگی طیارے ای 18 گراؤلر آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے

امریکی ریاست آئیڈاہو میں منعقدہ گن فائٹرز ائیر شو...

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزیر داخلہ سکندرمومنی بھی...

ذوالج کا چاند نظر آگیا عیدالاضحٰی 27 مئی کو ہوگی

مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے عیدالاضحیٰ کا چاند نظر...

تازہ ترین