ایران نے سرحدی صوبے کی حدود میں امریکا کے ایک جنگی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے جہاز گرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی افواج نے گمشدہ پائلٹ کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کیا جو ناکام رہا، جب کہ ایرانی فورسز بھی پائلٹ کی تلاش کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے امریکی لڑاکا طیارے کے گرنے کی تصدیق کی ہے جب کہ جہاز کے عملے کے زندہ بچ جانے سے متعلق لاعلمی ظاہر کی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع اور سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد یہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس کے جدید اور مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کے سرحدی علاقے میں ایک ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پائلٹ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم اس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے پائلٹ کے زندہ ہونے کے امکان کے پیشِ نظر اس کی تلاش اور ایران کی سرحدوں سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ نے اس آپریشن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور سی 130 طیارے کے ذریعے پائلٹ کی تلاش کی کوشش کی گئی جو بے نتیجہ رہی
