23.2 C
Islamabad

یو بی ایل اور جاز کے مابین 75 ارب روپے کا انٹرسٹ ریٹ سویپ کے تحت ریکارڈ لین دین

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انٹرسٹ ریٹ سویپ (آئی آر ایس) پر عمل درآمد کیا جس کے تحت پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) کے ساتھ 75 ارب روپے (تقریباً 270 ملین امریکی ڈالر) کا لین دین کیا گیا۔

یہ معاہدہ جو جمعہ کو ہوا، ٹیلی کام آپریٹر کے فلوٹنگ ریٹ قرضے کو فکسڈ ریٹ کی ذمہ داری میں تبدیل کرتا ہے۔بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ نے پیر کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ اس اقدام سے کمپنی کے لیے اخراجات کا واضح تعین اور طویل مدتی مالیاتی منصوبہ بندی میں یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔بروکریج ہاؤس نے مزید بتایا کہ موجودہ فلوٹنگ ریٹ قرض پر بینچ مارک کائبور آخری بار نومبر 2025 میں ری سیٹ کیا گیا تھا جس کے بعد قرض کی مجموعی لاگت 11.5 فیصد سے 12.0 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

شرحِ سود کو فکس (مستقل) کرکے جاز نے اپنے اخراجات کے بارے میں پیش گوئی کو یقینی بنالیا ہے اور خود کو مستقبل میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خطرات سے محفوظ کرلیا ہے۔اے ایچ ایل نے مزید بتایا کہ فلوٹنگ ریٹ میں ہر 50 سے 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی صورت میں یو بی ایل کو سالانہ تقریباً 0.38 سے 1.50 ارب روپے کا مجموعی (ٹیکس سے قبل) فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ لین دین پاکستان کی ڈیریویٹوز مارکیٹ کی ساخت میں گہرائی لانے کی علامت ہے اور درمیانی مدت میں شرحِ سود میں کمی کے رجحان پر اداروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔عارف حبیب لمیٹ کا کہنا ہے کہ اپنے بیلنس شیٹ کیپٹل کو استعمال کیے بغیر طویل مدتی فکسڈ ریٹ رسک لے کر یو بی ایل درحقیقت خود کو مستقل بنیادوں پر کم شرحِ سود والے نظام کے لیے تیار کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جو پورے بینکنگ سیکٹر کے قیمتوں کے تعین کے رویے پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور درمیانی سے طویل مدتی بانڈ ییلڈز میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کارپوریٹ اداروں کے لیے یہ لین دین لائیبلیٹی میجمنٹ میں بڑھتی ہوئی مہارت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ بینکوں کے لیے یہ روایتی قرضہ جات سے ہٹ کر رسک پر مبنی آمدنی کا ایک نیا راستہ کھولتا ہے جو ممکنہ طور پر ان کی مجموعی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا سکتا ہے

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین