پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2200 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 87 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔دوپہر 12 بجے تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,177.88 پوائنٹس یا 1.18 فیصد اضافے سے 187,276.71 پوائنٹس پر جاپہنچا۔آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پول، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق خریداری کی اس تیزی کی بنیادی وجہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود میں کمی کی توقعات ہیں جو 26 جنوری 2026 کو منعقد ہونا ہے۔گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط بنیادوں پر اختتام کیا جہاں آخری کاروباری سیشن میں زبردست بحالی کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس وہ نقصانات پورے کرنے میں کامیاب رہا جو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ہوئے تھے۔ ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس ای 100 انڈیکس 689.16 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے 185,098.83 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔ یہ گراوٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف(محصولات) لگانے کی دھمکی کے بعد سامنے آئی جس کا مقصد امریکہ کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت دلوانا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے جب کہ سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے جاپانی ین اور سوئس فرانک کا رخ کر لیا
