اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کردیا ۔
مارکیٹ کا خیال تھا کہ مرکزی بینک شرحِ سود کو برقرار رکھے گا تاہم اس کے برخلاف فیصلہ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 16 دسمبر 2025 سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔27 اکتوبر 2025 کو اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حالیہ سیلاب کا مجموعی معیشت پر اثر اندازے سے کم رہا ہے۔مارکیٹ ماہرین کو توقع تھی کہ آج کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ استحکام برقرار رکھتے ہوئے محتاط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، خاص طور پر اس لیے کہ وہ بنیادی اثر (بیس ایفیکٹ) جو ہیڈ لائن مہنگائی کو کم سطح پر رکھے ہوئے تھا، اب بتدریج ختم ہو رہا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا معمولی سا بڑھنا اور اندرونی معاشی بحالی کا ابتدائی مرحلہ مرکزی بینک کی طرف سے ایک محتاط، انتظار کرو اور دیکھو کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مزید حمایت کرتا ہے۔
اسی طرح رائٹرز کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مرکزی بینک سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کلیدی شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کے خطرات برقرار رہنے اور پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنے کی وارننگ کے بعد تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئیاں 2026 کے آخر تک مؤخر کردی ہیں۔سروے میں شامل تمام 12 تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرحِ سود میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شرکاء کا یہ ماننا تھا کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 26 کے اختتامی مہینوں سے پہلے نرمی کا عمل شروع نہیں کرے گا جب کہ بعض تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئی کو مالی سال 2027 تک مؤخر کر دیا ہے
