27.7 C
Islamabad

پاکستان کی کوششوں کے معترف اسلام آباد مذاکرات میں انکار نہیں کیا ۔عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کے ساتھ ایرانی عوام کی پاکستان سے محبت کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور لکھا کہ ہم نے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ان اقدامات کا قدر دان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی میڈیا جنگ بندی سے متعلق خبروں کو مسخ کر رہا ہے اور حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جا رہا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کو جامع، حتمی اور دیرپا ہونا چاہیے تاکہ اس تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اور ٹوئیٹ میں مغربی ممالک کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب نے شدید ردعمل دیا تھا، تاہم ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر حملوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اب تک بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کو چار مرتبہ نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے ممکنہ اثرات تہران کے بجائے خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں کو زیادہ متاثر کر سکتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ رپورٹس کے مطابق بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے قریب حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا تاہم تاحال کسی بڑی تابکاری کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی ۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں کے اصل مقاصد کیا ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر مشترکہ فضائی حملہ کیا، جس میں تین افراد شہید ہو گئے ہیں۔ حملے میں صیہونی طیاروں نے براہِ راست بہشتی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، جہاں ریسرچ سینٹر کی ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ترجمان یونیورسٹی کے مطابق اس عمارت میں لیزر اور پلازما پر تحقیق کی جاتی تھی۔اسرائیل کی جانب سے ایران کی درس گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے اب تک چھ سو سے زائد تعلیمی ادارے اور اسکول حملوں کی زد میں آئے ہیں

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین