ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز اس راستے سے گزرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی موصول ہوا جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اب کسی بھی جہاز کو اس گزرگاہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔اس سے قبل بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے ذریعے 8 آئل ٹینکرز پر مشتمل ایک قافلے کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اس راستے پر پہلی بڑی بحری سرگرمی تھی۔تاہم ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا لیکن آپ نے ہمیں نظرانداز کیا۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش کا مزہ لیں
