اسلام آباد، 27 مارچ:
چین کی مشہور مالیاتی کمپنی ‘فن وولوشن’ (Finvolution) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل قرضوں کے شعبے میں آگے بڑھنے کے بہت مواقع موجود ہیں۔ کمپنی کا مقصد ان لوگوں کو آسان قرضے فراہم کرنا ہے جن کی رسائی بینکوں تک نہیں ہے، تاکہ وہ بھی معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔اسی سلسلے میں چین سے آئے ہوئے ‘فن وولوشن’ کے وفد اور ان کے پاکستانی ذیلی ادارے ‘فن لیپ فنانشل سروسز’ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے ملاقات کی۔ اس میٹنگ میں پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور اس سے جڑے نئے قوانین پر بات چیت ہوئی۔وفد میں کمپنی کے بین الاقوامی سربراہ مسٹر سن ژاؤڈونگ، پاکستان مارکیٹ کی سی او او مسز باؤ ژے، گروتھ ہیڈ مسٹر رین ہوپینگ اور فن لیپ کے سی ای او شیخ عمر نسیم شامل تھے۔ اس ملاقات کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عام آدمی تک قرضوں کی سہولت کیسے پہنچائی جا سکتی ہے۔چینی سرمایہ کاروں سے بات کرتے ہوئے چئیرمین ایس ای سی پی ڈاکَر کبیر سدھو نے بتایا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل فنانشل سروسز اور فنٹیک سیکٹر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کے لیے مکمل رہنمائی و تعاون کریں گے اور ریگولیٹری رجیم کو مزید سہل اور بزنس فرینڈلی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان میں ماگیج انڈسٹری ، لیزنگ، ڈیجیٹال فناشل سروسز کا فروغ ترجیح ہے ۔ ڈاکٹر کبیر سدھونے کہا کہ عام آدمی کو مالیاتی سروسز کی فراہمی کے لیے فن ٹیک کمپنیاں ضروری ہیں ۔’فن لیپ فنانشل سروسز’ پہلے ہی پاکستان میں "دائرہ” (Daira) نامی ایپ کے ذریعے چھوٹے اور قسطوں والے قرضے دے رہی ہے۔ یہ کمپنی ایس ای سی پی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ہے۔پاکستان کے اس شعبے میں فن وولوشن گروپ کے آنے سے عام صارفین کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس کمپنی کا طریقہ کار مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس سے قرض لینے کا عمل تیز، آسان اور شفاف ہو جاتا ہے۔ اس سے لوگوں کو غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ ذرائع سے مہنگے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جدید ٹولز کی مدد سے قرض دینے سے پہلے خطرات کا اندازہ بھی بہتر طور پر لگایا جا سکے گا۔فن وولوشن گروپ کا ہیڈ آفس شنگھائی میں ہے اور یہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ یہ کمپنی چین، آسٹریلیا اور انڈونیشیا میں پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہی ہے۔
وفد نے ایس ای سی پی کے بنائے ہوئے قوانین کی تعریف کی اور وعدہ کیا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بہتر بنانے میں پورا ساتھ دیں گے۔
