راولپنڈی چلتی گاڑی میں مبینہ گینگ ریپ کا مقدمہ ڈیڑھ ماہ بعد درج،
اپریل 1, 2026راولپنڈی چلتی گاڑی میں مبینہ گینگ ریپ کا مقدمہ ڈیڑھ ماہ بعد درج، پسِ منظر کیا ہے؟راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں پولیس نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ خاتون سے مبینہ گینگ ریپ کا مقدمہ ڈیڑھ ماہ درج کیا ہے- ایف آئی آر کے مطابق تاریخ اور وقوعہ کا وقت نامعلوم ہے جبکہ اس کے اندراج کی تاریخ 29 مارچ ہے-مقدمے کے مطابق گوجر خان کی رہائشی خاتون مسماۃ ب نے تھانہ روات کی بحریہ ٹاؤن چوکی کے انچارج کو درخواست میں بتایا کہ اُن کی بیٹی ح کی عمر 19 برس ہے اور وہ شادی شدہ ہے جس کے دو بچے بھی ہیں- مدعیہ ب کے مطابق اُن کا داماد گاؤں میں ایک فارم پر نجی طور پر کام کرتا ہے- ایف آئی آر کے مطابق رمضان سے قبل میری بیٹی دن ساڑھے گیارہ بجے اپنے بچوں کے لیے عید کے کپڑے لینے روات بازار جانے کے لیے نکلی- گاؤں سے ایک کیری ڈبے میں بیٹھ کر چک بیلی سے آگے جی ٹی روڈ پر بنے سٹاپ پر اُتری- وہاں سے روات بازار جانے کے لیے ایک ٹیوٹا ہائی ایس میں سوار ہوئی- گاڑی کے کنڈیکٹر نے دروازہ بند کرنے کے بعد گاڑی واپس چک بیلی روڈ کی طرف موڑ لی جس پر میری بیٹی نے شور شرابہ کیا- کنڈیکٹر نے میری بیٹی کو قابو کیا اور ڈرائیور گاڑی واپس لے جانے لگا تو راستے میں ایک اور شخص کو بھی بٹھایا جس کو عقیل کے نام سے پکار رہے تھے جبکہ ڈرائیور کو سلطان کہہ رہے تھے-خاتون نے پولیس کو مزید بتایا کہ یہ لوگ میری بیٹی کو بگا شیخاں کے علاقے میں ایک مکان کے باہر لے گئے اور وہاں سے ایک اور شخص کو ساتھ لیا- یہ چاروں ملزمان گاؤں بگا شیخاں کی سڑک پر گاڑی چلانے کے دوران میری بیٹی کو ریپ کرتے رہے- اس کے بعد انہوں نے سہ پہر ساڑھے چار بجے چک بیلی موڑ پر اُتار دیا-
مدعیہ مسماۃ ب کے مطابق اُن کی بیٹی نے گھر کر اپنے شوہر کو اس واقعہ سے آگاہ کیا- لیکن اُس نے میری بیٹی کو خاموش رہنے کے لیے کہا کیونکہ ملزمان نے ریپ کرتے ہوئے اُس کی ویڈیوز بھی بنائیں-ایف آئی آر کے مطابق جب ملزمان نے گاڑی میں مسماۃ ح کو قابو کیا تھا تو اُس نے اپنے فون سے اجیل عرف بھٹو کو فون کرنے کی کوشش کی تھی جس پر اُس کا موبائل فون چھین لیا گیا تھا-سلطان نامی ملزم نے واقعے کے دو، تین دن بعد اپنے فون سے میری بیٹی کو کال کر دھمکیاں بھی دی تھیں کہ کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل کر دیں گے-مقدمے کی مدعیہ مسماۃ ب کے مطابق ملزم نے واٹس ایپ پر کالز اور وائس نوٹس بھیجے جن میں کہا کہ اُس کا ریپ مسماۃ ک اور مسماۃ ف کی ایما پر کیا گیا جو اُس کی نند اور ساس ہیں-مسماۃ ب کے مطابق یہ تمام واقعہ اُن کی بیٹی نے اُن کو بتایا جس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے- اور ملزمان قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے بار بار دھمکیاں دے رہے ہیں-اُن کا کہنا تھا کہ اس وقوعے کے بعد اکبر نامی شخص نے جرگہ کرایا اور ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور میری بیٹی کا علاج کرانے کا وعدہ کیا، مگر اُن پر عمل نہ کیا-مسماۃ ب نے ایف آئی آر میں سلطان، عقیل اور دو دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی ہے
