آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی اور واضح کیا کہ ان کا غیرجانب داری کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔آسٹریا کے سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے غیرملکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ آسٹریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں تاہم انہوں نے ان کی تعداد وضاحت نہیں کی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہر درخواست کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور یہ عمل آسٹریا کی وزارت خارجہ کے ساتھ مشاورت سے کیا جائے گا تاہم آسٹریا طویل عرصے سے فوجی غیر جانب داری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امریکی پروازوں پر مکمل پابندی عائد نہیں کی بلکہ ہر درخواست کو متعلقہ کیس کی بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔آسٹریا کی اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی(ایس پی او)نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ مؤقف قائم رہے۔ایس پی او کے سربراہ سوین ہرگووچ نے کہا کہ وزیر دفاع کلاڈیا ٹینر کو چاہیے کہ وہ خلیج کی جانب امریکا کی ایک بھی مزید فوجی پرواز کی منظوری نہ دے اور نہ ہی وہ کسی ٹرانسپورٹ پرواز یا دیگر لاجسٹک معاونت کی اجازت دے، ایسے ہی جیسے اسپین، فرانس، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کر رہے ہیں کیونکہ یہ جنگ آسٹریا کے معاشی مفادات، پورے یورپ اور عالمی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔یاد رہے کہ رواں ہفتے اسپین نے تنازع سے متعلق فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں اور اسی طرح اٹلی نے امریکی طیاروں کی سسلی میں ایک اڈے پر لینڈ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں
